صحیح بخاری حدیث ۱۵۴۷ - مدینہ سے ذوالحلیفہ تک نماز کا فرق
حج کے سفر میں قصر نماز: مدینہ اور ذوالحلیفہ کی روایت
صحیح بخاری : ۱۵۴۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۴۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بالمدينة أَرْبَعًا ، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ، قَالَ : وَأَحْسِبُهُ بَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت پڑھی لیکن ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعت۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ رات صبح تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں ہی گزار دی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۴۷ کا خلاصہ
یہ حدیث حج کے سفر میں نماز کی ایک واضح صورت بیان کرتی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی، پھر ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی۔ راوی نے یہ بھی کہا کہ ان کا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات صبح تک ذوالحلیفہ ہی میں گزاری۔ اس روایت سے قصر نماز، سفر حج، مدینہ سے ذوالحلیفہ، اور عصر دو رکعت جیسے تلاش کیے جانے والے موضوعات سامنے آتے ہیں۔ متن ہمیں صرف اتنا بتاتا ہے کہ ایک جگہ نماز پوری پڑھی گئی اور سفر کے اگلے مقام پر دو رکعت پڑھی گئی۔ اس لیے بیان کو اسی حد تک رکھنا درست ہے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر کے عمل کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ میں ظہر چار رکعت ادا کی گئی۔
- ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعت پڑھی گئی۔
- راوی نے ذوالحلیفہ میں رات گزارنے کا گمان بھی بیان کیا۔
