صحیح بخاری حدیث ۱۰۸۵ - حج میں تمتع اور عمرہ کی اجازت
حج کے ساتھ عمرہ کرنے کی اجازت اور آسانی
صحیح بخاری : ۱۰۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۸۵
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ مَعَهُ الْهَدْيُ " ، تَابَعَهُ عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ساتھ لے کر تلبیہ کہتے ہوئے ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو (مکہ میں) تشریف لائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے پاس ہدی نہیں ہے وہ بجائے حج کے عمرہ کی نیت کر لیں اور عمرہ سے فارغ ہو کر حلال ہو جائیں پھر حج کا احرام باندھیں۔ اس حدیث کی متابعت عطاء نے جابر سے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم صحابہ کے ساتھ حج کے لیے تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کہ جن لوگوں کے پاس قربانی (ہدی) نہیں ہے وہ اپنے حج کی نیت کو عمرہ میں بدل لیں۔ پھر عمرہ مکمل کر کے احرام کھول دیں اور بعد میں حج کا احرام باندھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں حج کے اعمال میں آسانی رکھی گئی ہے اور ضرورت کے مطابق طریقہ تبدیل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ حکم خاص طور پر ان لوگوں کے لیے تھا جن کے پاس قربانی موجود نہ تھی تاکہ وہ مشقت میں نہ رہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج میں آسانی اور رخصت موجود ہے
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عمرہ کی طرف رہنمائی فرمائی
- عبادت میں حالات کے مطابق سہولت دی گئی ہے
