صحیح مسلم حدیث ۱۲۱۱ - نماز میں ابلیس سے پناہ
نماز میں ابلیس سے پناہ: اعوذ باللہ منک
صحیح مسلم : ۱۲۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۱۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلْعَنُكَ بِلَعْنَة اللَّهِ " ، ثَلَاثًا ، وَبَسَطَ يَدَهُ ، كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ ، شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ ، وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ ، قَالَ : إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ ، جَاءَ بِشِهَابٍ مِنَ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي ، فَقُلْتُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قُلْتُ : " أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ ، فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَخْذَهُ ، وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ ، لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ .
ابودرداء روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی تجھ سے۔“ پھر فرمایا «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ» ”میں تجھ پر لعنت کرتا ہوں جیسی اللہ نے تجھ پر لعنت کی“ تین بار اور اپنا ہاتھ بڑھایا جیسے کوئی چیز لیتے ہیں۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! آج ہم نے نماز میں آپ کو وہ باتیں کرتے سنا جو پہلے کبھی نہیں سنی تھیں اور یہ بھی ہم نے دیکھا آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا دشمن ابلیس میرا منہ جلانے کے لئے انگارے کا ایک شعلہ لے کر آیا، میں نے تین بار کہا: میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، پھر میں نے کہا کہ میں تجھ پر لعنت کرتا ہوں جیسی اللہ نے تجھ پر لعنت کی پوری لعنت۔ وہ پیچھے نہ ہٹا تینوں بار، آخر میں نے چاہا کہ اس کو پکڑ لوں۔ اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح تک بندھا رہتا اور مدینے کے بچے اس سے کھیلتے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۲۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز میں ابلیس سے پناہ مانگنے کا واقعہ ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے تھے، صحابہ نے آپ کو اعوذ باللہ منک کہتے سنا۔ پھر آپ نے تین بار فرمایا کہ میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں۔ نماز کے بعد صحابہ نے پوچھا کہ آج ہم نے نماز میں آپ سے ایسی بات سنی جو پہلے نہ سنی تھی، اور آپ نے ہاتھ بھی بڑھایا۔ آپ نے بتایا کہ اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا شعلہ لے کر آیا تھا تاکہ آپ کے چہرے پر ڈالے۔ آپ نے تین بار اللہ کی پناہ مانگی اور لعنت کی۔ پھر اسے پکڑنے کا ارادہ کیا، مگر سلیمان علیہ السلام کی دعا کا خیال رکھا۔ یہ حدیث نماز میں تعوذ، شیطان سے بچاؤ، اور اللہ پر بھروسہ سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنا اس روایت میں آیا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد صحابہ کو وجہ بتائی۔
- ابلیس کی کوشش کے باوجود اللہ کی مدد غالب رہی۔
- سلیمان علیہ السلام کی دعا کا ادب کیا گیا۔
