صحیح مسلم حدیث ۱۲۱۰ - نماز میں جن کا واقعہ

نماز میں جن کی رکاوٹ: الفاظ کے فرق کے ساتھ روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۱۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ . ح ، قَالَ : حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ ، قَوْلُهُ : فَذَعَتُّهُ ، وَأَمَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ : فَدَعَتُّهُ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی الفاظ کی کچھ تبدیلی کے ساتھ اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۲۱۰ کا خلاصہ

یہ روایت اسی واقعہ کو بیان کرتی ہے جس میں ایک شریر جن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں خلل ڈالنے آیا تھا۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ الفاظ میں کچھ تبدیلی کے ساتھ وہی مضمون نقل ہوا۔ اس حدیث کا بنیادی موضوع نماز میں شیطان سے حفاظت، جن کی رکاوٹ، اور اللہ تعالیٰ کی مدد ہے۔ پچھلی روایت میں یہ بات آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قابو میں کر لیا تھا اور ارادہ کیا کہ مسجد کے ستون سے باندھ دیں، مگر حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آئی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے الفاظ مختلف سندوں میں معمولی فرق سے آ سکتے ہیں، مگر اصل پیغام وہی رہتا ہے۔ نماز میں رکاوٹ کے باوجود اللہ کی مدد اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب واضح نظر آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک ہی واقعہ مختلف الفاظ کے ساتھ روایت ہو سکتا ہے۔
  • نماز میں خلل ڈالنے والی چیز سے اللہ کی مدد طلب کی جاتی ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلیمان علیہ السلام کی دعا کا لحاظ رکھا۔
  • اصل معنی کو سندوں کے فرق کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں