صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۹ - نماز میں جن کی رکاوٹ

نماز میں جن کی رکاوٹ اور اللہ کی مدد

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۰۹

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ ، جَعَلَ يَفْتِكُ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ ، وَإِنَّ اللَّهَ أَمْكَنَنِي مِنْهُ فَذَعَتُّهُ ، فَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، حَتَّى تُصْبِحُوا تَنْظُرُونَ إِلَيْهِ أَجْمَعُونَ أَوْ كُلُّكُمْ ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي ، وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ، فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِئًا " ، وَقَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ شُعْبَةُ : عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شریر جن میری نماز توڑنے کے لئے پچھلی رات کے وقت مجھے پکڑنے لگا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو میرے قابو میں کر دیا۔ میں نے اس کا گلا دبایا اور میرا قصد یہ تھا کہ میں اس کو مسجد کے ایک ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب اس کو دیکھ لو لیکن مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آئی۔انہوں نے یہ دعا کی تھی، اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت دے جو میرے بعد پھر کسی کو نہ ملے (تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی ہی سلطنت دی، شیطان ان کے تابع تھے، جن مسخر تھے اور پرند ان کی اطاعت میں تھے) پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو (جن کو) ذلت کے ساتھ بھگا دیا۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۹ کا خلاصہ

یہ حدیث نماز میں شیطان یا جن کی رکاوٹ کے موضوع پر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شریر جن پچھلی رات میری نماز توڑنے کے لیے آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے آپ کے قابو میں کر دیا۔ آپ نے ارادہ فرمایا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دیں تاکہ صبح سب لوگ اسے دیکھ لیں، پھر آپ کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آئی کہ انہیں ایسی بادشاہی دی جائے جو ان کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس جن کو ذلت کے ساتھ واپس کر دیا۔ اس روایت میں نماز کی حفاظت، جن کی مداخلت، اللہ کی مدد، اور انبیاء کے ادب کا مضمون ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ رکاوٹ آئی، اللہ نے مدد دی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلیمان علیہ السلام کی دعا کا لحاظ کیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں خلل ڈالنے کی کوشش ہو سکتی ہے، مگر اللہ مدد فرمانے والا ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلیمان علیہ السلام کی دعا کا لحاظ فرمایا۔
  • جن کو قابو میں کرنے کے باوجود اسے باندھا نہیں گیا۔
  • نماز کی حفاظت اور توجہ اس روایت کا اہم حصہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں