صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۸ - سواری پر نماز کی روایت
سواری پر نماز اور نماز کی وجہ سے جواب نہ دینا
صحیح مسلم : ۱۲۰۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۰۸
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّاد .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی روایت کی گئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۸ کا خلاصہ
یہ حدیث اسی واقعہ کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے جس میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو ایک کام کے لیے بھیجا گیا، پھر وہ واپس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی حالت میں تھے۔ اس مضمون میں سواری پر نماز، نماز میں سلام، اور نماز میں بات نہ کرنے کی بات آتی ہے۔ اگر کوئی شخص اس حدیث کو تلاش کرے تو عام طور پر وہ سواری پر نماز حدیث، نماز میں سلام کا جواب، یا نفل نماز سواری پر جیسے الفاظ لکھتا ہے۔ روایت کا سادہ مطلب یہ ہے کہ نماز کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو نہ کی، اور نماز کے بعد وجہ بیان فرما دی۔ اس سے یہ انداز بھی ملتا ہے کہ کسی بات کا جواب مؤخر ہو جائے تو بعد میں وضاحت کر دینا بہتر ہے، خاص طور پر جب وجہ نماز جیسی عبادت ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے دوران گفتگو نہ کرنا اس روایت کے مضمون میں شامل ہے۔
- نماز کے بعد بات کی وضاحت کی جا سکتی ہے۔
- سواری پر نماز کا واقعہ اسی معنی کو مضبوط کرتا ہے۔
- عبادت کے وقت توجہ کو مقدم رکھا گیا۔
