صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۷ - قبلہ کے بغیر سواری پر نماز
سواری پر نماز اور سلام کا جواب مؤخر ہونا
صحیح مسلم : ۱۲۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۰۷
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ ، فَرَجَعْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَوَجْهُهُ ، عَلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " .
جابر روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا۔ جب میں لوٹ کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ قبلے کی طرف نہ تھا، میں نے سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”میں جواب ضرور دیتا مگر نماز پڑھ رہا تھا۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سفر کے دوران سواری پر نماز کا ذکر ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ آپ نے انہیں ایک کام کے لیے بھیجا۔ جب وہ واپس آئے تو آپ اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا رخ قبلہ کی طرف نہ تھا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے سلام کیا، مگر آپ نے جواب نہ دیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ میں جواب ضرور دیتا، مگر میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع سواری پر نماز، نماز میں سلام کا جواب، اور نماز کی مشغولیت ہے۔ روایت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ جواب نہ دینا بے توجہی نہیں تھا، بلکہ نماز کی وجہ سے تھا۔ اس میں نماز کے ادب کو سادہ انداز میں سمجھایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں سلام کا جواب زبانی طور پر مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد وجہ صاف بیان فرمائی۔
- سفر میں سواری پر نماز کا واقعہ اس روایت میں آیا ہے۔
- نماز کے دوران اصل توجہ نماز پر رہتی ہے۔
