صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۶ - سواری پر نماز اور بات کا جواب

سواری پر نماز: بات کا جواب اشارے سے دینا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۰۶

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ ، فَكَلَّمْتُهُ ، فَقَالَ لِي بِيَدِهِ : هَكَذَا ، وَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ بِيَدِهِ ، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ ، فَقَالَ لِي : هَكَذَا ، فَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ أَيْضًا بِيَدِهِ نَحْوَ الأَرْضِ ، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ يُومِئُ بِرَأْسِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : " مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " ، قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو الزُّبَيْرِ : جَالِسٌ مُسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ بِيَدِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ : إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَقَالَ بِيَدِهِ : إِلَى غَيْرِ الْكَعْبَةِ .

جابر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی مصطلق (ایک قبیلہ) کی طرف جا رہے تھے راہ میں مجھے ایک کام کو بھیجا، پھر میں لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا زہیر نے بتلایا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا۔ پھر میں نے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح اشارہ کیا۔ زہیر نے اس کو بھی بتلایا زمین کی طرف اشارہ کر کے اور میں سن رہا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھ رہے تھے اور سر سے اشارہ کر رہے تھے (رکوع اور سجدہ کیلئے) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تو نے اس کام میں جس کام کے لئے میں نے تجھ کو بھیجا تھا کیا کیا۔ اور میں تجھ سے بات نہ کر سکا کیونکہ میں نماز پڑھتا تھا۔“زہیر نے کہا: ابوالزبیر قبلہ کی طرف منہ کئے بیٹھے تھے (جب وہ حدیث بیان کی) انہوں نے بنی مصطلق کی طرف اشارہ کیا تو وہ کعبہ کی طرف نہ تھے (بلکہ بنی مصطلق کا رخ اور تھا تو معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفل سوا کعبے کے اور طرف بھی سواری پر پڑھا)۔

صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۶ کا خلاصہ

یہ حدیث سواری پر نماز اور نماز میں بات نہ کرنے کے بارے میں واضح واقعہ پیش کرتی ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کے لیے بھیجا۔ جب وہ واپس آئے تو آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بات کی تو آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر انہوں نے دوبارہ بات کی تو پھر اشارہ فرمایا۔ جابر رضی اللہ عنہ آپ کی قراءت سن رہے تھے اور آپ سر سے اشارہ کر کے رکوع اور سجدہ کر رہے تھے۔ نماز کے بعد آپ نے ان سے کام کے بارے میں پوچھا اور فرمایا کہ میں تم سے بات اس لیے نہ کر سکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس حدیث میں نماز میں اشارہ، سواری پر نفل نماز، نماز میں قراءت، اور نماز میں بات کا حکم سب ایک ساتھ آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کے دوران عام بات کا جواب زبان سے نہیں دیا گیا۔
  • ضرورت کے وقت ہاتھ سے اشارہ کیا گیا۔
  • سواری پر نماز میں رکوع اور سجدہ سر کے اشارے سے ادا ہوئے۔
  • نماز کے بعد ضروری بات کا جواب دیا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں