حدیث ۱۲۰۵
صحیح مسلم : ۱۲۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۰۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ ، قَالَ قُتَيْبَةُ : يُصَلِّي ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، دَعَانِي ، فَقَالَ : " إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي ، وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ " .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو کام کے لئے بھیجا پھر میں لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے (سواری پر)، قتیبہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے نماز پڑھ رہے تھے (نفل کیونکہ نفل سواری پر درست ہے) میں نے سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے جواب دیا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو مجھ کو بلایا اور فرمایا کہ ”تو نے ابھی مجھ کو سلام کیا تھا اور میں نماز پڑھ رہا تھا۔“ (اس لئے جواب نہ دے سکا) حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ پورب کی طرف تھا (اور قبلہ پورب کی طرف نہ تھا معلوم ہوا کہ نفل سواری پر پڑھنے کے لیے قبلہ کی طرف منہ ہونا ضروری نہیں)۔
