صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۴ - نماز میں کلام کی ممانعت

نماز میں خاموشی کا حکم: دوسری سند سے روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۰۴

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَوَكِيعٌ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .

‏‏‏‏ اسی اسناد کے ساتھ بھی مذکورہ بالا حدیث روایت کی گئی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۴ کا خلاصہ

یہ روایت اسی مضمون کو دوسری سند کے ساتھ بیان کرتی ہے کہ نماز میں بات کرنا منع ہوا اور خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ پچھلی روایت میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ پہلے نماز میں آدمی اپنے ساتھ والے سے بات کر لیتا تھا، پھر وقوموا لله قانتين کے حکم کے بعد نماز میں خاموشی لازم کی گئی۔ اس حدیث میں الفاظ مختصر ہیں، مگر موضوع وہی ہے: نماز میں بات چیت کا حکم۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ نماز میں انسان کا دھیان نماز پر ہونا چاہیے، نہ کہ لوگوں سے گفتگو پر۔ نماز کا ادب، خاموشی، اور اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا احساس اس روایت کا بنیادی سبق ہے۔ یہ روایت پچھلی بات کو مضبوط انداز سے نقل کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں خاموشی کے حکم کو دوسری سند سے بھی نقل کیا گیا۔
  • نماز کے اندر عام گفتگو سے رکنا چاہیے۔
  • اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا ادب خاموشی سے جڑا ہے۔
  • دینی حکم کو صحیح سند سے سمجھنا اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں