صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۳ - نماز میں بات کرنا منع ہے
نماز میں بات کرنا منع: اللہ کے سامنے خاموش کھڑے ہونا
صحیح مسلم : ۱۲۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۰۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ ، يُكَلِّمُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ ، حَتَّى نَزَلَتْ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 ، " فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ " .
زید بن ارقم روایت:
ہم نماز میں باتیں کیا کرتے۔ ہر شخص اپنے پاس والے سے نماز پڑھنے میں بات کرتا یہاں تک کہ یہ آیت «وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» (۲-البقرہ:۲۳۸) اتری یعنی اللہ کے سامنے چپ چاپ کھڑے ہو جب سے ہم کو حکم ہوا چپ چاپ رہنے کا اور بات کرنا منع ہو گیا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۳ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز میں بات کرنا کے موضوع پر صاف رہنمائی دیتی ہے۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ پہلے نماز میں لوگ اپنے ساتھ والے سے بات کر لیتے تھے۔ پھر قرآن کی آیت وقوموا لله قانتين نازل ہوئی، جس کا مطلب بیان کیا گیا کہ اللہ کے سامنے چپ چاپ کھڑے ہو۔ اس کے بعد خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور نماز میں بات کرنا منع ہو گیا۔ اس روایت میں نماز میں خاموشی، نماز میں کلام کا حکم، اور خشوع نماز کا مضمون بہت واضح ہے۔ بات سادہ ہے: نماز میں بندہ اللہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، اس لیے عام گفتگو اس مقام کے مناسب نہیں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حکم آنے کے بعد صحابہ کرام نے نماز کا طریقہ اسی کے مطابق بدل لیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں عام بات چیت منع کر دی گئی۔
- اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے وقت خاموشی اور توجہ مطلوب ہے۔
- صحابہ کرام حکم ملنے کے بعد فوراً عمل بدل لیتے تھے۔
- نماز میں اپنے پاس والے سے گفتگو بھی مناسب نہیں۔
