صحیح بخاری حدیث ۱۵۴۶ - ذوالحلیفہ میں دو رکعت اور تلبیہ
ذوالحلیفہ میں قصر نماز اور سواری پر تلبیہ
صحیح بخاری : ۱۵۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۴۶
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، فَلَمَّا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَاسْتَوَتْ بِهِ أَهَلَّ ".
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں چار رکعتیں پڑھیں لیکن ذوالحلیفہ میں دو رکعت ادا فرمائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات وہیں گزاری۔ صبح کے وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک پکاری۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سفر حج کے دوران نماز اور تلبیہ دونوں کا ذکر ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں چار رکعت پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعت ادا فرمائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات وہیں گزاری۔ صبح جب سواری پر سوار ہوئے تو لبیک پکاری۔ اس روایت سے قصر نماز، ذوالحلیفہ میں قیام، اور سواری پر تلبیہ شروع کرنے جیسے موضوعات سامنے آتے ہیں۔ حدیث میں صرف یہی بتایا گیا ہے کہ مدینہ میں نماز پوری پڑھی گئی اور ذوالحلیفہ میں دو رکعت، پھر صبح سواری کے وقت لبیک کہا گیا۔ اس لیے اسے حج کے سفر میں ترتیب، نماز، قیام اور احرام کے آغاز کی سادہ رہنمائی سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں چار رکعت اور ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھیں۔
- ذوالحلیفہ میں رات قیام کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
- صبح سواری پر سوار ہونے کے بعد لبیک کہی گئی۔
