صحیح بخاری حدیث ۱۵۵۳ - قبلہ رخ ہو کر تلبیہ اور ذی طویٰ میں قیام
قبلہ رخ تلبیہ، حرم تک لبیک اور ذی طویٰ کا قیام
صحیح بخاری : ۱۵۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۵۳
وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا صَلَّى بِالْغَدَاةِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ , ثُمَّ رَكِبَ فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ قَائِمًا , ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى يَبْلُغَ الْحَرَمَ , ثُمَّ يُمْ سِكُ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذَا طُوًى بَاتَ بِهِ حَتَّى يُصْبِحَ , فَإِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ اغْتَسَلَ , وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ , عَنْ أَيُّوبَ فِي الْغَسْلِ .
نافع روایت:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ میں صبح کی نماز پڑھ چکے تو اپنی اونٹنی پر پالان لگانے کا حکم فرمایا، سواری لائی گئی تو آپ اس پر سوار ہوئے اور جب وہ آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی تو آپ کھڑے ہو کر قبلہ رو ہو گئے اور پھر لبیک کہنا شروع کیا تاآنکہ حرم میں داخل ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے لبیک کہنا بند کر دیا۔ پھر ذی طویٰ میں تشریف لا کر رات وہیں گزارتے صبح ہوتی تو نماز پڑھتے اور غسل کرتے (پھر مکہ میں داخل ہوتے) آپ یقین کے ساتھ یہ جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔عبدالوارث کی طرح اس حدیث کو اسماعیل نے بھی ایوب سے روایت کیا۔ اس میں غسل کا ذکر ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۵۳ کا خلاصہ
اس روایت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا حج کے سفر کا عمل بیان ہوا ہے۔ وہ ذوالحلیفہ میں صبح کی نماز کے بعد سواری تیار کرواتے، سوار ہوتے، سواری کھڑی ہوتی تو کھڑے ہو کر قبلہ رخ ہوتے اور تلبیہ شروع کرتے۔ پھر حرم تک تلبیہ جاری رکھتے، وہاں پہنچ کر روک دیتے۔ اس کے بعد ذی طویٰ میں رات گزارتے، صبح نماز پڑھتے اور غسل کرتے۔ روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ یقین سے جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا تھا۔ اس حدیث سے قبلہ رخ تلبیہ، حرم تک لبیک، ذی طویٰ میں قیام، اور حج سے پہلے غسل جیسے موضوعات سامنے آتے ہیں۔ متن ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی پیروی کا ایک منظم انداز دکھاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما ذوالحلیفہ سے سواری پر بیٹھ کر تلبیہ شروع کرتے۔
- حرم پہنچنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا ذکر ہے۔
- ذی طویٰ میں رات، صبح نماز اور غسل کا عمل بیان ہوا۔
