صحیح بخاری حدیث ۱۵۵۲ - سواری کھڑی ہونے پر لبیک
تلبیہ کب شروع کریں؟ سواری کھڑی ہونے کا وقت
صحیح بخاری : ۱۵۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۵۲
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً " .
ابن عمر روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پوری طرح کھڑی ہو گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت لبیک پکارا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۵۲ کا خلاصہ
یہ مختصر حدیث تلبیہ کے آغاز کے وقت کو واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر آپ کی سواری پوری طرح کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک پکارا۔ اس سے تلبیہ کب شروع کریں، احرام کے بعد لبیک، اور سواری پر تلبیہ جیسے سوالوں کا جواب ملتا ہے۔ روایت میں نہ لمبی تفصیل ہے اور نہ کوئی اضافی حکم، بلکہ صرف ایک عمل بتایا گیا ہے: سواری قائم ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ کہا۔ حاجی کے لیے اس میں سادگی کا سبق ہے کہ عبادت کے کاموں میں وقت اور طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے سیکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حدیث حج کے عملی مراحل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پوری طرح کھڑی ہونے پر لبیک کہا۔
- تلبیہ کے آغاز کا ایک عملی وقت اس روایت میں بیان ہوا۔
- صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو مختصر مگر صاف الفاظ میں نقل کیا۔
