صحیح بخاری حدیث ۱۵۵۱ - حج و عمرہ کا احرام اور قربانی
حج و عمرہ کا احرام، تلبیہ اور قربانی کا عمل
صحیح بخاری : ۱۵۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۵۱
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ مَعَهُ بالمدينة الظُّهْرَ أَرْبَعًا ، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ بَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ ، ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ , حَمِدَ اللَّهَ , وَسَبَّحَ , وَكَبَّرَ ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهِمَا ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَ النَّاسَ فَحَلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ , قَالَ : وَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا ، وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالمدينة كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : قَالَ بَعْضُهُمْ : هَذَا عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، مدینہ میں ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو وہیں رہے۔ صبح ہوئی تو مقام بیداء سے سواری پر بیٹھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کی تسبیح اور تکبیر کہی۔پھر حج اور عمرہ کے لیے ایک ساتھ احرام باندھا اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا (یعنی قران کیا) جب ہم مکہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے (جن لوگوں نے حج تمتع کا احرام باندھا تھا ان) سب نے احرام کھول دیا۔ پھر آٹھویں تاریخ میں سب نے حج کا احرام باندھا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کھڑے ہو کر بہت سے اونٹ نحر کئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (عید الاضحی کے دن) مدینہ میں بھی دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح کئے تھے۔ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ بعض لوگ اس حدیث کو یوں روایت کرتے ہیں ایوب سے، انہوں نے ایک شخص سے، انہوں نے انس سے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۵۱ کا خلاصہ
یہ حدیث حج کے سفر کی ترتیب کو کئی حصوں میں بیان کرتی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت اور ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعت پڑھی، پھر رات وہیں گزاری۔ صبح بیداء پر سواری کے بعد اللہ کی حمد، تسبیح اور تکبیر کہی، پھر حج اور عمرہ کے لیے احرام باندھا، اور لوگوں نے بھی ایسا کیا۔ مکہ آنے کے بعد لوگوں کو احرام کھولنے کا حکم دیا گیا، پھر یوم الترویہ پر حج کا احرام باندھا گیا۔ روایت میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کھڑے ہو کر اونٹ نحر کیے۔ اس لیے یہ حدیث حج قران، حج و عمرہ کا احرام، تلبیہ، اور ہدی کی قربانی جیسے موضوعات کو جوڑتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں نماز، قیام، تسبیح، تکبیر اور احرام کی ترتیب بیان ہوئی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا۔
- قربانی کے جانوروں کو نحر کرنے کا عمل بھی روایت میں آیا ہے۔
