صحیح بخاری حدیث ۱۵۷۳ - ذی طویٰ میں قیام اور غسل
ذی طویٰ میں قیام کی حدیث: مکہ داخل ہونے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل
صحیح بخاری : ۱۵۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۷۳
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : " كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا دَخَلَ أَدْنَى الْحَرَمِ أَمْسَكَ عَنِ التَّلْبِيَةِ ، ثُمَّ يَبِيتُ بِذِي طِوًى ، ثُمَّ يُصَلِّي بِهِ الصُّبْحَ , وَيَغْتَسِلُ وَيُحَدِّثُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " .
نافع روایت:
جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حرم کی سرحد کے قریب پہنچتے تو تلبیہ کہنا بند کر دیتے۔ رات ذی طویٰ میں گزارتے، صبح کی نماز وہیں پڑھتے اور غسل کرتے (پھر مکہ میں داخل ہوتے) آپ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بیان کرتے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حرم کی سرحد کے قریب پہنچتے تو تلبیہ کہنا بند کر دیتے۔ پھر ذی طویٰ میں رات گزارتے، صبح کی نماز وہیں پڑھتے اور غسل کرتے۔ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اس روایت کا موضوع ذی طویٰ میں قیام، تلبیہ روکنا، مکہ داخل ہونے سے پہلے غسل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی ہے۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر شخص پر یہ لازم ہے، اس لیے بات کو اسی طرح سمجھنا چاہیے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس عمل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے اور خود بھی اس کے مطابق کرتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما حرم کے قریب تلبیہ روک دیتے تھے۔
- وہ ذی طویٰ میں رات گزارتے، صبح نماز پڑھتے اور غسل کرتے تھے۔
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس عمل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔
- مکہ داخل ہونے سے پہلے کے آداب اس روایت میں عملی انداز سے آتے ہیں۔
