صحیح بخاری حدیث ۱۵۸۳ - بنیاد ابراہیم اور کعبہ
کعبہ کی بنیاد ابراہیم: نرمی اور حکمت کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۵۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۸۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا : " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ لَمَّا بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْتُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ ، إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تجھے معلوم ہے جب تیری قوم نے کعبہ کی تعمیر کی تو بنیاد ابراہیم کو چھوڑ دیا تھا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر آپ بنیاد ابراہیم پر اس کو کیوں نہیں بنا دیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے بالکل نزدیک نہ ہوتا تو میں بیشک ایسا کر دیتا۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے (اور یقیناً عائشہ رضی اللہ عنہا سچی ہیں) تو میں سمجھتا ہوں یہی وجہ تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم سے متصل جو دیواروں کے کونے ہیں ان کو نہیں چومتے تھے۔ کیونکہ خانہ کعبہ ابراہیمی بنیادوں پر پورا نہ ہوا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں کعبہ کی بنیاد ابراہیم کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ قریش نے کعبہ بناتے وقت بنیاد ابراہیم کو چھوڑ دیا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ پھر آپ اسے بنیاد ابراہیم پر کیوں نہیں بنا دیتے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے ابھی قریب نہ ہوتا تو میں ایسا کر دیتا۔ اس سے “کعبہ کی بنیاد ابراہیم” اور “حطیم کعبہ کا حصہ” جیسے سوالات کا ایک اہم پہلو سمجھ آتا ہے۔ حدیث کے آخر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس بات سے یہ سمجھا کہ حطیم کی طرف والے کونوں کو نہ چومنے کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ بیت اللہ ابراہیمی بنیادوں پر مکمل نہیں تھا۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ درست بات کے ساتھ لوگوں کی حالت کا لحاظ بھی کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کعبہ کی تعمیر میں بنیاد ابراہیم کا مسئلہ موجود تھا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے قوم کے نئے اسلام کو دیکھ کر فوری تبدیلی نہیں کی۔
- دینی کام میں لوگوں کے دلوں کی حالت کا لحاظ رکھا گیا۔
