صحیح بخاری حدیث ۱۵۸۴ - حطیم بھی بیت اللہ میں داخل ہے

حطیم کعبہ کا حصہ ہے: بیت اللہ کی تعمیر سے متعلق حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۸۴

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ ؟ , هُوَ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : فَمَا لَهُمْ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ ؟ , قَالَ : إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ ، قُلْتُ : فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا ؟ , قَالَ : فَعَلَ ذَلِكَ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِالْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِي الْبَيْتِ ، وَأَنْ أُلْصِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ " .

عائشہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا حطیم بھی بیت اللہ میں داخل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، پھر میں نے پوچھا کہ پھر لوگوں نے اسے کعبے میں کیوں نہیں شامل کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ تمہاری قوم کے پاس خرچ کی کمی پڑ گئی تھی۔ پھر میں نے پوچھا کہ یہ دروازہ کیوں اونچا بنایا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی تمہاری قوم ہی نے کیا تاکہ جسے چاہیں اندر آنے دیں اور جسے چاہیں روک دیں۔ اگر تمہاری قوم کی جاہلیت کا زمانہ تازہ تازہ نہ ہوتا اور مجھے اس کا خوف نہ ہوتا کہ ان کے دل بگڑ جائیں گے تو اس حطیم کو بھی میں کعبہ میں شامل کر دیتا اور کعبہ کا دروازہ زمین کے برابر کر دیتا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۵۸۴ کا خلاصہ

یہ حدیث حطیم اور بیت اللہ کے بارے میں بہت واضح سوال و جواب بیان کرتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا حطیم بھی بیت اللہ میں داخل ہے؟ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر پوچھا گیا کہ لوگوں نے اسے کعبہ میں شامل کیوں نہیں کیا؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ان کے پاس خرچ کم پڑ گیا تھا۔ پھر کعبہ کے دروازے کے اونچا ہونے کا سبب بتایا کہ قریش جسے چاہتے داخل کرتے اور جسے چاہتے روک دیتے۔ اس حدیث میں “حطیم کعبہ کا حصہ ہے” اور “کعبہ کا دروازہ اونچا کیوں ہے” دونوں باتیں متن کے اندر موجود ہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر قوم کا جاہلیت کا زمانہ قریب نہ ہوتا اور دل بگڑنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو حطیم کو کعبہ میں شامل کر دیتے اور دروازہ زمین کے برابر کر دیتے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حطیم کو اس روایت میں بیت اللہ کا حصہ کہا گیا ہے۔
  • کعبہ کی تعمیر میں خرچ کی کمی کا ذکر آیا ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کے دلوں کے بگڑنے کے اندیشے کا لحاظ فرمایا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں