صحیح بخاری حدیث ۱۵۸۵ - قریش کی تعمیر اور ابراہیمی بنیاد
قریش کی تعمیر اور کعبہ کی بنیاد ابراہیم کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۵۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۸۵
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا حَدَاثَةُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ ، ثُمَّ لَبَنَيْتُهُ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّ قُرَيْشًا اسْتَقْصَرَتْ بِنَاءَهُ وَجَعَلْتُ لَهُ خَلْفًا " , قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، خَلْفًا يَعْنِي بَابًا .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا، اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے ابھی تازہ نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو توڑ کر اسے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر بناتا کیونکہ قریش نے اس میں کمی کر دی ہے۔ اس میں ایک دروازہ اور اس دروازے کے مقابل رکھتا۔ ابومعاویہ نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا۔ حدیث میں «خلف» سے دروازہ مراد ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۸۵ کا خلاصہ
اس روایت میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کعبہ کی تعمیر کے بارے میں بات فرمائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے ابھی تازہ نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو توڑ کر ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر بناتا، کیونکہ قریش نے اس کی تعمیر میں کمی کر دی تھی۔ اسی حدیث میں ایک اور دروازہ بنانے کا ذکر بھی ہے، اور ابومعاویہ کی وضاحت کے مطابق “خلف” سے مراد دروازہ ہے۔ اس لیے “قریش نے کعبہ میں کمی کی” اور “کعبہ کو بنیاد ابراہیم پر بنانا” اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ حدیث کا انداز بتاتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے ایک درست تعمیر کا ارادہ تھا، مگر قوم کی نازک حالت کی وجہ سے اسے مؤخر رکھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قریش کی تعمیر ابراہیمی بنیاد سے کم رہ گئی تھی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم ایک اور دروازہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے، اگر حالات مناسب ہوتے۔
- لوگوں کی نئی دینی حالت کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
