صحیح مسلم حدیث ۱۳۳۳ - نماز میں یاد کرنے والی پناہ کی دعا

نماز میں پناہ کی دعا: جیسے سورت سکھائی جاتی تھی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۳۳

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنِ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ ، كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، يَقُولُ : قُولُوا : اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " ، قَالَ مُسْلِم بْن الْحَجَّاج : بَلَغَنِي أَنَّ طَاوُسًا ، قَالَ لِابْنِهِ : أَدَعَوْتَ بِهَا فِي صَلَاتِكَ ؟ فَقَالَ : لَا ، قَالَ : أَعِدْ صَلَاتَكَ ، لِأَنَّ طَاوُسًا رَوَاهُ عَنْ ثَلَاثَةٍ ، أَوْ أَرْبَعَةٍ ، أَوْ كَمَا قَالَ .

ابن عباس روایت:

تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یہ دعا سکھاتے تھے جس طرح ان کو قرآن کی سورت سکھاتے کہ ”کہو: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» اے اللہ! ہم پناہ مانگتے ہیں تجھ سے دوزخ کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، اور پناہ مانگتے ہیں تجھ سے دجال کے فتنہ سے اور پناہ مانگتے ہیں تجھ سے زندگی اور موت کے فتنہ سے۔“کہا مسلم بن حجاج رحمہ اللہ نے پہنچا مجھ کو کہ طاؤس نے اپنے بیٹے سے کہا: تو نے نماز میں یہ دعا مانگی؟ کہا: نہیں۔ کہا: اپنی نماز پھر پڑھ تحقیق کہ طاؤس نے اس حدیث کو تین یا چار راویوں سے روایت کیا یا جیسا کہ کہا۔

صحیح مسلم حدیث ۱۳۳۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو یہ دعا اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ دعا میں جہنم کے عذاب، قبر کے عذاب، مسیح دجال کے فتنے، اور زندگی و موت کے فتنے سے پناہ مانگی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا صرف ایک عام جملہ نہیں، بلکہ نماز میں یاد رکھنے والی اہم دعا ہے۔ روایت کے آخر میں طاؤس رحمہ اللہ کا اپنے بیٹے سے نماز میں اس دعا کے بارے میں پوچھنا بھی نقل ہوا ہے، اور انہوں نے اسے بڑی اہمیت دی۔ اس حدیث کا مرکزی سبق یہ ہے کہ نماز میں پناہ کی دعا کو سنجیدگی سے سیکھا جائے، سمجھا جائے، اور اللہ سے حفاظت مانگی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا صحابہ کو خاص اہتمام سے سکھاتے تھے۔
  • نماز میں جہنم، قبر، دجال اور زندگی و موت کے فتنے سے پناہ مانگنی چاہیے۔
  • دعا کو یاد کرنا اور نماز میں پڑھنا اہم عمل ہے۔
  • دینی دعا کو سیکھنے میں سنجیدگی ہونی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں