صحیح مسلم حدیث ۱۳۳۲ - قبر، جہنم اور دجال سے پناہ

قبر، جہنم اور فتنہ دجال سے پناہ کی نبوی دعا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۳۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ كَانَ ، يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگتے تھے قبر کے عذاب سے اور دوزخ کے عذاب سے اور دجال کے فتنہ سے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۳۳۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے عذاب، جہنم کے عذاب، اور دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔ اس روایت میں الفاظ مختصر ہیں، مگر تین اہم چیزیں سامنے آتی ہیں: قبر، جہنم، اور دجال کا فتنہ۔ یہ سب ایسے معاملات ہیں جن میں بندہ اپنی طاقت سے محفوظ نہیں رہ سکتا، اس لیے اللہ سے پناہ مانگنا سکھایا گیا۔ حدیث کا مقصد ہمیں ڈرانا نہیں، بلکہ دعا کی طرف لانا ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود یہ دعا کرتے تھے تو امت کے لیے بھی اس میں بڑا سبق ہے۔ عذاب قبر سے پناہ، جہنم سے پناہ، اور دجال سے حفاظت اس حدیث کے اصل سرچ موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔
  • جہنم کے عذاب سے بچنے کے لیے اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔
  • فتنہ دجال سے پناہ مانگنا نبوی عمل ہے۔
  • مختصر دعا میں بھی بہت اہم دینی فکر شامل ہو سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں