صحیح مسلم حدیث ۱۳۳۱ - وہی دعا دوسری سند سے
عذاب اور فتنوں سے پناہ: ایک اور سند سے وہی تعلیم
صحیح مسلم : ۱۳۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۳۱
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
اس سند سے بھی وہی حدیث آئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۳۱ کا خلاصہ
اس مختصر روایت میں بیان ہے کہ اسی سند سے وہی حدیث آئی ہے۔ پچھلی روایت کا مضمون اللہ کے عذاب، قبر کے عذاب، مسیح دجال کے فتنے، اور زندگی و موت کے فتنے سے پناہ مانگنے کے بارے میں تھا۔ یہاں اصل توجہ متن کی تکرار پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ وہی بات دوسری سند سے بھی نقل ہوئی۔ حدیث کے طالب علم کے لیے یہ انداز اہم ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ راویوں نے الفاظ، سند اور مضمون کو الگ الگ امانت کے ساتھ محفوظ کیا۔ عام پڑھنے والے کے لیے سبق یہ ہے کہ پناہ کی دعا معمولی چیز نہیں، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں بار بار آنے والا مضمون ہے۔ اس لیے عذاب قبر، فتنہ دجال اور فتنہ محیا و ممات سے پناہ مانگنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی نبوی تعلیم کئی سندوں سے نقل ہو سکتی ہے۔
- پناہ مانگنے والی دعا کا مضمون بار بار بیان ہوا ہے۔
- حدیث نقل کرنے میں سند اور متن دونوں کی حفاظت کی گئی۔
- اللہ سے عذاب اور فتنوں سے حفاظت مانگنا اہم عمل ہے۔
