صحیح بخاری حدیث ۱۵۸۶ - کعبہ کے دو دروازے اور حطیم
کعبہ کے دو دروازے اور حطیم: بنیاد ابراہیم کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۵۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۸۶
حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا : " يَا عَائِشَةُ ، لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ ، لَأَمَرْتُ بالبيت فَهُدِمَ ، فَأَدْخَلْتُ فِيهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ وَأَلْزَقْتُهُ بِالْأَرْضِ ، وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا فَبَلَغْتُ بِهِ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ ، فَذَلِكَ الَّذِي حَمَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى هَدْمِهِ " , قَالَ يَزِيدُ : وَشَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ هَدَمَهُ وَبَنَاهُ وَأَدْخَلَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ ، وَقَدْ رَأَيْتُ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ حِجَارَةً كَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ ، قَالَ جَرِيرٌ : فَقُلْتُ لَهُ : أَيْنَ مَوْضِعُهُ ؟ , قَالَ : أُرِيكَهُ الْآنَ ، فَدَخَلْتُ مَعَهُ الْحِجْرَ ، فَأَشَارَ إِلَى مَكَانٍ ، فَقَالَ : هَا هُنَا ، قَالَ جَرِيرٌ : فَحَزَرْتُ مِنَ الْحِجْرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ! اگر تیری قوم کا زمانہ جاہلیت ابھی تازہ نہ ہوتا، تو میں بیت اللہ کو گرانے کا حکم دے دیتا تاکہ (نئی تعمیر میں) اس حصہ کو بھی داخل کر دوں جو اس سے باہر رہ گیا ہے اور اس کی کرسی زمین کے برابر کر دوں اور اس کے دو دروازے بنا دوں، ایک مشرق میں اور ایک مغرب میں۔ اس طرح ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر اس کی تعمیر ہو جاتی۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا کعبہ کو گرانے سے یہی مقصد تھا۔یزید نے بیان کیا کہ میں اس وقت موجود تھا جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے گرایا تھا اور اس کی نئی تعمیر کر کے حطیم کو اس کے اندر کر دیا تھا۔ میں نے ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کے پائے بھی دیکھے جو اونٹ کی کوہان کی طرح تھے۔ جریر بن حازم نے کہا کہ میں نے ان سے پوچھا، ان کی جگہ کہاں ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں ابھی دکھاتا ہوں۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ حطیم میں گیا اور آپ نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ وہ جگہ ہے۔ جریر نے کہا کہ میں نے اندازہ لگایا کہ وہ جگہ حطیم میں سے چھ ہاتھ ہو گی یا ایسی ہی کچھ۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۸۶ کا خلاصہ
یہ حدیث کعبہ کی تعمیر، حطیم اور دو دروازوں کے مسئلے کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم کا جاہلیت سے زمانہ قریب نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو گرانے کا حکم دیتا، باہر رہ جانے والا حصہ اندر شامل کرتا، اس کی کرسی زمین کے برابر کرتا، اور اس کے دو دروازے بناتا: ایک مشرق میں اور ایک مغرب میں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اس طرح وہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد تک پہنچ جاتا۔ اسی روایت میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے عمل کا ذکر بھی آیا کہ انہوں نے اسی مقصد سے کعبہ کو دوبارہ بنایا اور حطیم کو اندر شامل کیا۔ “کعبہ کے دو دروازے” اور “حطیم کعبہ میں شامل” اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے حطیم کو کعبہ میں شامل کرنے کا ارادہ بیان فرمایا۔
- حدیث میں کعبہ کے دو دروازوں، مشرقی اور مغربی، کا ذکر ہے۔
- عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے عمل کا سبب اسی روایت سے سمجھا گیا۔
