صحیح بخاری حدیث ۱۵۸۷ - مکہ کی حرمت کے احکام
مکہ کی حرمت: درخت، شکار اور گری پڑی چیز کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۵۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۸۷
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قال : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ ، وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ پر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شہر (مکہ) کو حرمت والا بنایا ہے (یعنی عزت دی ہے) پس اس کے (درختوں کے) کانٹے تک بھی نہیں کاٹے جا سکتے یہاں کے شکار بھی نہیں ہنکائے جا سکتے۔ اور ان کے علاوہ جو اعلان کر کے (مالک تک پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہوں) کوئی شخص یہاں کی گری پڑی چیز بھی نہیں اٹھا سکتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں فتح مکہ کے دن نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مکہ کی حرمت بیان فرمائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو حرمت والا بنایا ہے۔ اس کے کانٹے بھی نہیں کاٹے جا سکتے، اس کے شکار کو نہیں ہنکایا جا سکتا، اور یہاں کی گری پڑی چیز وہی اٹھائے جو اس کا اعلان کرے۔ اس لیے یہ روایت “مکہ کی حرمت کی حدیث”، “حرم مکہ کے احکام” اور “مکہ میں گری پڑی چیز کا حکم” جیسے موضوعات کے لیے بہت اہم ہے۔ حدیث میں تین باتیں صاف آئیں: نباتات کی حفاظت، شکار کو نہ چھیڑنا، اور امانت کی نیت سے گمشدہ چیز کا اعلان۔ اس متن میں مکہ کی حرمت کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے، اس لیے معاملہ صرف عام شہر کا نہیں بلکہ حرم کا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مکہ کو اللہ تعالیٰ نے حرمت والا شہر بنایا ہے۔
- حرم میں کانٹے کاٹنے اور شکار ہنکانے سے منع کیا گیا ہے۔
- گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے کی نیت سے اٹھائی جا سکتی ہے۔
