صحیح بخاری حدیث ۱۵۸۸ - مسلمان اور کافر کی وراثت

مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا: مکہ کے گھروں کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۸۸

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، قال : أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ تَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ ؟ , فَقَالَ : وَهَلْ تَرَكَ عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَيْئًا لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ ، فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : لَا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَكَانُوا يَتَأَوَّلُونَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ سورة الأنفال آية 72 " .

اسامہ بن زید روایت:

´ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں علی بن حسین نے، انہیں عمرو بن عثمان نے اور انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ` انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ مکہ میں کیا اپنے گھر میں قیام فرمائیں گے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عقیل نے ہمارے لیے محلہ یا مکان چھوڑا ہی کب ہے۔ (سب بیچ کھوچ کر برابر کر دئیے) عقیل اور طالب، ابوطالب کے وارث ہوئے تھے۔جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو وراثت میں کچھ نہیں ملا تھا، کیونکہ یہ دونوں مسلمان ہو گئے تھے اور عقیل رضی اللہ عنہ (ابتداء میں) اور طالب اسلام نہیں لائے تھے۔ اسی بنیاد پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔ ابن شہاب نے کہا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے دلیل لیتے ہیں کہ ”جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی، وہی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔“

صحیح بخاری حدیث ۱۵۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ مکہ میں اپنے گھر میں قیام فرمائیں گے؟ نبی صلى الله عليه وسلم نے جواب دیا کہ عقیل نے ہمارے لیے محلہ یا مکان چھوڑا ہی کب ہے۔ پھر روایت میں ابو طالب کی وراثت کا ذکر آیا کہ عقیل اور طالب وارث ہوئے، جبکہ جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو حصہ نہ ملا کیونکہ وہ مسلمان تھے، اور عقیل و طالب اس وقت اسلام نہیں لائے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل ہوا کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔ اس لیے اس حدیث کا اصل موضوع “مسلمان کافر کی وراثت” ہے۔ ساتھ ہی مکہ کے گھروں، ہجرت اور خاندان کے معاملے کی ایک خاص صورت بھی متن میں آئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے مکہ میں اپنے گھر کے بارے میں مختصر جواب دیا۔
  • روایت میں ابو طالب کی وراثت کا خاص واقعہ بیان ہوا ہے۔
  • عمر رضی اللہ عنہ کا قول آیا کہ مؤمن کافر کا وارث نہیں ہوتا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں