صحیح بخاری حدیث ۱۶۰۶ - یمانی ارکان کا استلام
رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل
صحیح بخاری : ۱۶۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۰۶
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قال : " مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ مُنْذُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا " ، قُلْتُ لِنَافِعٍ : أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ ، قَالَ : إِنَّمَا كَانَ يَمْشِي لِيَكُونَ أَيْسَرَ لِاسْتِلَامِهِ .
ابن عمر روایت:
جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں رکن یمانی کو چومتے ہوئے دیکھا میں نے بھی اس کے چومنے کو خواہ سخت حالات ہوں یا نرم نہیں چھوڑا۔ میں نے نافع سے پوچھا کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں یمنی رکنوں کے درمیان معمول کے مطابق چلتے تھے؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ معمول کے مطابق اس لیے چلتے تھے تاکہ حجر اسود کو چھونے میں آسانی رہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع یمانی ارکان کا استلام ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں یمانی ارکان کا استلام کرتے دیکھا، انہوں نے سختی ہو یا آسانی، اسے نہیں چھوڑا۔ اس حدیث میں صحابی کا طرز عمل بہت صاف ہے: انہوں نے وہی کام اپنایا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھا۔ نافع سے پوچھا گیا کہ کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما دونوں رکنوں کے درمیان معمول کے مطابق چلتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ حجر اسود کو چھونے میں آسانی رہے۔ اس حدیث کو رکن یمانی کی حدیث، استلام حجر اسود، طواف میں ارکان کا استلام، اور سنت کی پیروی کے الفاظ سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی پیروی کی۔
- حدیث میں دونوں یمانی ارکان کے استلام کا ذکر ہے۔
- مشکل اور آسان دونوں حالتوں میں نبوی عمل کو یاد رکھا گیا۔
- چلنے کا انداز حجر اسود کے استلام میں آسانی کے لیے تھا۔
