صحیح بخاری حدیث ۱۶۲۶ - سواری پر طواف کی اجازت

سواری پر طواف: ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے لیے آسانی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۲۶

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ الْغَسَّانِيُّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ وَهُوَ بمكة وَأَرَادَ الْخُرُوجَ ، وَلَمْ تَكُنْ أُمُّ سَلَمَةَ طَافَتْ بالبيت وَأَرَادَتِ الْخُرُوجَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَطُوفِي عَلَى بَعِيرِكِ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ ، فَلَمْ تُصَلِّ حَتَّى خَرَجَتْ " .

ام سلمہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابومروان یحییٰ ابن ابی زکریا غسانی نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے اور وہاں سے چلنے کا ارادہ ہوا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کعبہ کا طواف نہیں کیا اور وہ بھی روانگی کا ارادہ رکھتی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب صبح کی نماز کھڑی ہو اور لوگ نماز پڑھنے میں مشغول ہو جائیں تو تم اپنی اونٹنی پر طواف کر لینا۔ چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا اور انہوں نے باہر نکلنے تک طواف کی نماز نہیں پڑھی۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۲۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ وہ مکہ سے روانگی کا ارادہ رکھتی تھیں، مگر انہوں نے ابھی کعبہ کا طواف نہیں کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ جب صبح کی نماز کھڑی ہو اور لوگ نماز میں مشغول ہوں، تو تم اپنی اونٹنی پر طواف کر لینا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور باہر نکلنے تک طواف کی نماز نہیں پڑھی۔ اس روایت کا اصل موضوع طواف میں آسانی اور ضرورت کے وقت مناسب طریقہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت اور مجبوری کو دیکھتے ہوئے رہنمائی فرمائی۔ طواف بیت اللہ ایک اہم عبادت ہے، لیکن کمزوری یا خاص حالت میں آسان راستہ بھی بتایا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ضرورت کے وقت سواری پر طواف کی اجازت اس روایت میں بیان ہوئی ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حالت کے مطابق آسانی بتائی۔
  • عبادت میں ترتیب کے ساتھ انسان کی حالت کا لحاظ بھی رکھا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں