صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۱ - عصر کے بعد دو رکعت کا عمل
عصر کے بعد دو رکعت: عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت
صحیح بخاری : ۱۶۳۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۳۱
قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : وَرَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَيُخْبِرُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَدْخُلْ بَيْتَهَا إِلَّا صَلَّاهُمَا " .
عائشہ روایت:
´عبدالعزیز نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو عصر کے بعد بھی دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ وہ بتاتے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان کے گھر آتے (عصر کے بعد) تو یہ دو رکعت ضرور پڑھتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبدالعزیز بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا۔ وہ بتاتے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان کے گھر آتے تو یہ دو رکعت ضرور پڑھتے تھے۔ اس روایت کا موضوع عصر کے بعد دو رکعت کا خاص عمل ہے۔ چونکہ دوسری روایات میں عصر کے بعد عام نفل نماز سے ممانعت کا ذکر بھی ملتا ہے، اس لیے اس روایت کو جلدی میں عام قاعدہ بنا دینا مناسب نہیں۔ یہاں صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آنے پر ان دو رکعت کا عمل بیان کیا، اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اسے نقل کرتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خاص عمل بیان کیا۔
- عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اس روایت کی بنیاد پر دو رکعت پڑھتے تھے۔
- نماز کے اوقات کے مسائل میں مختلف روایات کو سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔
