صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۲ - سواری پر طواف اور حجر اسود کی طرف اشارہ
اونٹ پر طواف، حجر اسود کی طرف اشارہ اور تکبیر
صحیح بخاری : ۱۶۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۳۲
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بالبيت وَهُوَ عَلَى بَعِيرٍ ، كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ فِي يَدِهِ وَكَبَّرَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اونٹ پر سوار ہو کر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی (طواف کرتے ہوئے) حجر اسود کے نزدیک آتے تو اپنے ہاتھ کو ایک چیز (چھڑی) سے اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اونٹ پر سوار ہو کر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حجر اسود کے قریب آتے تو ہاتھ میں موجود کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے۔ اس روایت کا اصل موضوع طواف کعبہ، حجر اسود کا ادب، اشارہ اور تکبیر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر قریب جا کر حجر اسود کو چھونا ممکن نہ ہو، تو اشارہ بھی کیا گیا۔ روایت میں سواری پر طواف کا بھی ذکر ہے، جو خاص حالت یا ضرورت میں آسانی کو ظاہر کرتا ہے۔ حاجی یا عمرہ کرنے والے کے لیے یہ حدیث بتاتی ہے کہ طواف میں اللہ کی بڑائی، نظم اور ادب کو ساتھ رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا۔
- حجر اسود کے قریب آتے تو اشارہ کر کے تکبیر کہتے۔
- طواف میں اللہ اکبر کہنا اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے طور پر آیا ہے۔
