صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۳ - بیماری میں سواری پر طواف
بیماری میں طواف: لوگوں کے پیچھے سے سواری پر ادا کرنا
صحیح بخاری : ۱۶۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۳۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي ، فَقَالَ : طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ، فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ البيت وَهُوَ يَقْرَأُ : بِ وَالطُّورِ { 1 } وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ { 2 } سورة الطور آية 1-2 " .
ام سلمہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لے۔ چنانچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں (نماز کے اندر) «والطور وكتاب مسطور» کی قرآت کر رہے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیماری کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لو۔ چنانچہ انہوں نے اسی طرح طواف کیا، اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور سورۃ الطور کی ابتدائی آیات پڑھ رہے تھے۔ اس روایت کا موضوع بیماری میں طواف کی آسانی ہے۔ اس میں یہ بھی ادب سمجھ آتا ہے کہ کمزور یا بیمار شخص لوگوں کے ہجوم میں مزاحمت کے بجائے پیچھے سے طواف کرے۔ طواف کعبہ کی اہمیت برقرار ہے، مگر بیمار شخص کے لیے ایسا طریقہ بتایا گیا جس سے عبادت بھی ادا ہو اور لوگوں کو تکلیف بھی نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیماری کی حالت میں سواری پر طواف کی اجازت اس روایت میں آئی ہے۔
- لوگوں کے پیچھے سے طواف کرنے میں ہجوم سے بچنے کی سمجھ آتی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار شخص کے لیے آسان طریقہ بتایا۔
