صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۴ - حاجیوں کو زمزم پلانے کی خدمت

حاجیوں کو پانی پلانا: خدمت کے لیے اجازت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۳۴

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قال : " اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بمكة لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ ، فَأَذِنَ لَهُ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے پانی (زمزم کا حاجیوں کو) پلانے کے لیے منیٰ کے دنوں میں مکہ ٹھہرنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ وہ منیٰ کے دنوں میں مکہ میں رات گزاریں تاکہ حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کر سکیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ اس حدیث کا اصل موضوع سقایہ، یعنی حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت، اور ضرورت کے وقت اجازت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کے دنوں میں بعض ذمہ داریاں ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے عام معمول سے الگ اجازت دی جا سکتی ہے۔ یہاں خدمت کو اہمیت دی گئی، مگر اجازت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لی گئی۔ اس میں نظم، ادب اور اجتماعی فائدے کا اچھا پہلو سامنے آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حاجیوں کو پانی پلانا ایک خدمت ہے جس کے لیے اجازت دی گئی۔
  • عباس رضی اللہ عنہ نے خود سے فیصلہ نہیں کیا بلکہ اجازت طلب کی۔
  • دینی کاموں میں نظم اور ذمہ داری کا خیال رکھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں