صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۹ - رکاوٹ کے وقت حج و عمرہ کا ارادہ
حج میں رکاوٹ کا اندیشہ اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پیروی
صحیح بخاری : ۱۶۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۳۹
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، دَخَلَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَظَهْرُهُ فِي الدَّارِ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَكُونَ الْعَامَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ فَيَصُدُّوكَ عَنْ البيت فَلَوْ أَقَمْتَ ، فَقَالَ : قَدْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنهُ وَبَيْنَ البيت ، فَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ أَفْعَلُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ، ثُمَّ قَالَ : أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجًّا ، قَالَ : ثُمَّ قَدِمَ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا " .
نافع روایت:
ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عبداللہ بن عبداللہ ان کے یہاں گئے۔ حج کے لیے سواری گھر میں کھڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خطرہ ہے کہ اس سال مسلمانوں میں آپس میں لڑائی ہو جائے گی اور آپ کو وہ بیت اللہ سے روک دیں گے۔ اس لیے اگر آپ نہ جاتے تو بہتر ہوتا۔ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے گئے تھے (عمرہ کرنے صلح حدیبیہ کے موقع پر) اور کفار قریش نے آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا تھا۔ اس لیے اگر مجھے بھی روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج (اپنے اوپر) واجب کر لیا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ مکہ آئے اور دونوں عمرہ اور حج کے لیے ایک ہی طواف کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حج کے ارادے کا واقعہ ہے۔ ان کے بیٹے نے کہا کہ اس سال مسلمانوں میں لڑائی کا خطرہ ہے اور ممکن ہے آپ کو بیت اللہ سے روک دیا جائے، اس لیے نہ جانا بہتر ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گئے تھے اور قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ سے روک دیا تھا؛ اگر مجھے روکا گیا تو میں بھی وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے، اور اپنے عمرہ کے ساتھ حج واجب کرنے کا اعلان کیا۔ بعد میں مکہ آ کر حج اور عمرہ کے لیے ایک ہی طواف کیا۔ اس حدیث کا موضوع اتباع سنت، حج میں رکاوٹ کا امکان، اور حج و عمرہ کو جمع کرنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل صورت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو نمونہ بنایا۔
- رکاوٹ کے اندیشے کے باوجود انہوں نے دینی عمل کو سنت کے مطابق سمجھا۔
- انہوں نے عمرہ کے ساتھ حج واجب کرنے کا اعلان کیا۔
