صحیح بخاری حدیث ۱۶۴۴ - طواف میں رمل اور سعی کا طریقہ
طواف میں رمل کی حدیث: تین چکر تیز اور چار معمول کے مطابق
صحیح بخاری : ۱۶۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۴۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قال : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَافَ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ خَبَّ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ، وَكَانَ يَسْعَى بَطْنَ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا والمروة " ، فَقُلْتُ لِنَافِعٍ : أَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَمْشِي إِذَا بَلَغَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ ، قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ يُزَاحَمَ عَلَى الرُّكْنِ فَإِنَّهُ كَانَ لَا يَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَلِمَهُ .
عبداللہ بن عمر روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلا طواف کرتے تو اس کے تین چکروں میں رمل کرتے اور بقیہ چار میں معمول کے مطابق چلتے اور جب صفا اور مروہ کی سعی کرتے تو آپ نالے کے نشیب میں دوڑا کرتے تھے۔عبیداللہ نے کہا میں نے نافع سے پوچھا، ابن عمر رضی اللہ عنہما جب رکن یمانی کے پاس پہنچتے تو کیا حسب معمول چلنے لگتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ البتہ اگر رکن یمانی پر ہجوم ہوتا تو حجر اسود کے پاس آ کر آپ آہستہ چلنے لگتے کیونکہ وہ بغیر چومے اس کو نہیں چھوڑتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۴۴ کا خلاصہ
یہ حدیث طواف اور صفا مروہ کی سعی کے عملی طریقے کو بیان کرتی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے مطابق رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب پہلا طواف کرتے تو تین چکروں میں رمل کرتے، یعنی تیز چال اختیار فرماتے، اور باقی چار چکروں میں معمول کے مطابق چلتے۔ پھر صفا اور مروہ کی سعی میں نالے کے نشیب والی جگہ دوڑتے تھے۔ روایت کے آخر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کا بھی ذکر ہے کہ رکن یمانی پر ہجوم ہوتا تو وہ حجر اسود کے پاس آ کر آہستہ چلتے، کیونکہ وہ اسے چومے یا چھوئے بغیر چھوڑنا پسند نہیں کرتے تھے۔ اس سے طواف کا طریقہ، رمل، سعی، اور رکن کے احترام کا پہلو سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پہلے طواف کے تین چکروں میں رمل کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- سعی کے دوران مخصوص نشیبی جگہ پر تیز چلنے یا دوڑنے کا عمل بیان ہوا ہے۔
- رکن کے پاس ہجوم ہو تو عمل میں احتیاط اور نرمی کا پہلو بھی روایت میں ملتا ہے۔
