صحیح بخاری حدیث ۱۶۴۵ - عمرہ میں صفا مروہ کی سعی
عمرہ میں سعی کی حدیث: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بہترین نمونہ ہیں
صحیح بخاری : ۱۶۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۴۵
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قال : سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَجُلٍ طَافَ بِالْبَيْتِ فِي عُمْرَةٍ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ ؟ فَقَالَ : " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 .
عمرو بن دینار روایت:
ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے متعلق پوچھا جو عمرہ میں بیت اللہ کا طواف تو کر لے لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کرتا، کیا وہ اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے۔ انہوں نے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ) تشریف لائے تو آپ نے بیت اللہ کا سات چکروں کے ساتھ طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر صفا اور مروہ کی سات مرتبہ سعی کی اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمرہ کے ایک سوال کا جواب نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل سے دیا گیا ہے۔ لوگوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ایک شخص عمرہ میں بیت اللہ کا طواف کر لے مگر صفا اور مروہ کی سعی نہ کرے، تو کیا وہ اپنی بیوی کے قریب جا سکتا ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدھا جواب دینے کے بجائے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا طریقہ بیان کیا: آپ صلى الله عليه وسلم مکہ آئے، بیت اللہ کے سات چکر لگائے، مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی، پھر صفا اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ سعی کی۔ آخر میں انہوں نے قرآن کی آیت پڑھ کر بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبادت کے طریقے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے عمل کو معیار بنایا گیا۔
- طواف کے بعد دو رکعت نماز اور پھر صفا مروہ کی سعی کا ذکر آیا ہے۔
- سوال کا جواب نصیحت کے انداز میں نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے دیا گیا۔
