صحیح بخاری حدیث ۱۶۸۷ - منی جاتے ہوئے تلبیہ جاری رکھنا
منی تک سفر اور تلبیہ: رمی جمرہ عقبہ تک لبیک
صحیح بخاری : ۱۶۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۸۷
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ ، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى ، قَالَ : فَكِلَاهُمَا قَالَا : " لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما عرفات سے مزدلفہ تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے منی جاتے وقت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھا لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں حضرات نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل لبیک کہتے رہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۸۷ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی روایت کے ہم معنی ہے اور اس میں بھی حج کے سفر میں تلبیہ کا بیان ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما عرفات سے مزدلفہ تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے۔ پھر مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے ہوئے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہوئے۔ دونوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک برابر تلبیہ کہتے رہے۔ اس حدیث میں تلبیہ کو حج کے سفر کے ساتھ جوڑا گیا ہے، خاص طور پر عرفات، مزدلفہ، منی اور جمرہ عقبہ کے مراحل کے ساتھ۔ اسی لیے یہ حدیث لبیک کب تک پڑھنا ہے جیسے سوال کے لیے اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تلبیہ جمرہ عقبہ کی رمی تک جاری رہنے کا ذکر آیا ہے۔
- حج کے سفر میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو محفوظ کیا۔
- عرفات، مزدلفہ اور منی کے مراحل اس روایت میں اکٹھے ذکر ہوئے ہیں۔
- حدیث میں اصل زور عمل کے مشاہدے پر ہے، نہ کہ اضافی تفصیل پر۔
