صحیح بخاری حدیث ۱۷۲۲ - یوم نحر

یوم نحر کے اعمال میں ترتیب بدل جائے تو لا حرج

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۲۲

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ قَالَ : لَا حَرَجَ ، قَالَ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ قَالَ : لَا حَرَجَ ، قَالَ : ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ قَالَ : لَا حَرَجَ " , وَقَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ : عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى :حَدَّثَنِي ابْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ عَفَّانُ : أُرَاهُ عَنْ وُهَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ حَمَّادٌ : عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ وَعَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

ابن عباس روایت:

ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! رمی سے پہلے میں نے طواف زیارت کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، پھر اس نے کہا اور یا رسول اللہ! قربانی کرنے سے پہلے میں نے سر منڈوا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں، پھر اس نے کہا اور قربانی کو رمی سے بھی پہلے کر لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔اور عبدالرحیم رازی نے ابن خشیم سے بیان کیا، کہا کہ عطاء نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور قاسم بن یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے ابن خشیم نے بیان کیا، ان سے عطاء نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ عفان بن مسلم صغار نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہیب بن خالد سے روایت ہے کہ ابن خثیم نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور حماد نے قیس بن سعد اور عباد بن منصور سے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۷۲۲ کا خلاصہ

یہ حدیث حج کے دن یعنی یوم نحر کے اعمال میں آسانی کو بہت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ ایک آدمی نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ میں نے رمی سے پہلے طواف زیارت کر لیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ پھر اس نے کہا کہ قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ پھر اس نے کہا کہ قربانی رمی سے پہلے کر لی، آپ صلى الله عليه وسلم نے پھر یہی فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ اس روایت میں اصل بات یہی ہے کہ رمی جمار، طواف زیارت، قربانی اور حلق جیسے حج کے اعمال میں اگر اس دن ترتیب آگے پیچھے ہو جائے تو سوال کرنے والے کو سخت جواب نہیں دیا گیا۔ اسی لیے یہ حدیث حج لا حرج، یوم النحر کے مسائل، اور طواف زیارت سے پہلے رمی جیسے سرچ الفاظ کے لیے اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یوم نحر کے بعض اعمال میں ترتیب بدل جانے پر اس حدیث میں آسانی بیان ہوئی ہے۔
  • مسئلہ سمجھ نہ آئے تو پوچھنا درست طریقہ ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ہر سوال کا جواب اطمینان کے ساتھ دیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں