صحیح بخاری حدیث ۱۷۲۱ - حج میں آسانی

حج میں لا حرج حدیث: قربانی سے پہلے حلق کا مسئلہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۲۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : "سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ وَنَحْوِهِ ، فَقَالَ : لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ " .

ابن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی قباحت نہیں، کوئی قباحت نہیں۔ (ترجمہ اور باب میں موافقت ظاہر ہے)۔

صحیح بخاری حدیث ۱۷۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع حج میں آسانی اور یوم نحر کے بعض اعمال کی ترتیب ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا تھا۔ جواب میں آپ صلى الله عليه وسلم نے دو بار فرمایا: کوئی قباحت نہیں، کوئی قباحت نہیں۔ اس سے اتنی بات صاف سمجھ آتی ہے کہ اس خاص صورت میں، جب حاجی سے حلق قربانی سے پہلے ہو جائے، تو اسے گھبرا کر اپنے عمل کو خراب سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ لا حرج حدیث، حلق قبل ذبح، اور حج کے مسائل یوم النحر جیسے الفاظ سے اس روایت کو تلاش کرتے ہیں۔ حدیث کا انداز بھی نرم ہے؛ سوال ہوا، جواب آسان دیا گیا، اور حاجی کو اطمینان ملا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قربانی سے پہلے حلق ہو جائے تو اس روایت کے مطابق کوئی حرج نہیں۔
  • دینی مسئلہ پیش آئے تو اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے سوال کرنے والے کو آسان اور صاف جواب دیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں