صحیح بخاری حدیث ۱۷۳۷ - لا حرج
دسویں ذوالحجہ کا خطبہ اور لا حرج کی رہنمائی
صحیح بخاری : ۱۷۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۳۷
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ ، " أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ وَأَشْبَاهَ ذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : افْعَلْ وَلَا حَرَجَ لَهُنَّ كُلِّهِنَّ ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ : افْعَلْ وَلَا حَرَجَ " .
عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ دے رہے تھے تو وہ وہاں موجود تھے۔ ایک شخص نے اس وقت کھڑے ہو کر پوچھا کہ میں اس خیال میں تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے پھر دوسرا کھڑا ہوا اور کہا کہ میرا خیال تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے، چنانچہ میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا، رمی جمار سے پہلے قربانی کر لی، اور مجھے اس میں شک ہوا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب کر لو۔ ان سب میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح کے دوسرے سوالات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے جواب میں یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کر لو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۳۷ کا خلاصہ
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس موجود تھے جب آپ صلى الله عليه وسلم دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ دے رہے تھے۔ لوگوں نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ ہم سمجھتے تھے فلاں عمل فلاں سے پہلے ہے، مگر ہم سے ترتیب بدل گئی؛ کسی نے قربانی سے پہلے حلق کیا، کسی نے رمی سے پہلے نحر کیا، اور اسی طرح کے سوالات ہوئے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اب کر لو، ان سب میں کوئی حرج نہیں۔ روایت کے آخر میں آتا ہے کہ اس دن جس چیز کے بارے میں سوال ہوا، آپ صلى الله عليه وسلم نے یہی فرمایا: کر لو، کوئی حرج نہیں۔ اس حدیث کا مرکزی لفظ افعل ولا حرج ہے، جو یوم نحر کے اعمال کی ترتیب کے سوالات سے جڑا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- منیٰ کے خطبے کے دوران لوگوں نے عملی مسائل پوچھے۔
- حلق، نحر اور رمی کی ترتیب بدلنے کا ذکر آیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ہر ایسے سوال پر لا حرج فرمایا۔
