صحیح بخاری حدیث ۱۷۵۸ - طواف کے بعد حیض کا مسئلہ
طواف کے بعد حیض: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا جواب
صحیح بخاری : ۱۷۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۵۸
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، " أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ سَأَلُوا ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ امْرَأَةٍ طَافَتْ ، ثُمَّ حَاضَتْ ؟ , قَالَ لَهُمْ : تَنْفِرُ ، قَالُوا : لَا نَأْخُذُ بِقَوْلِكَ وَنَدَعُ قَوْلَ زَيْدٍ ، قَالَ : إِذَا قَدِمْتُمْ الْمَدِينَةَ فَسَلُوا ، فَقَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَسَأَلُوا ، فَكَانَ فِيمَنْ سَأَلُوا أُمُّ سُلَيْمٍ ، فَذَكَرَتْ حَدِيثَ صَفِيَّةَ " , رَوَاهُ خَالِدٌ وَقَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ .
عکرمہ روایت:
مدینہ کے لوگوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک عورت کے متعلق پوچھا کہ جو طواف کرنے کے بعد حائضہ ہو گئی تھیں، آپ نے انہیں بتایا کہ (انہیں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں بلکہ) چلی جائیں۔ لیکن پوچھنے والوں نے کہا ہم ایسا نہیں کریں گے کہ آپ کی بات پر عمل تو کریں اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کی بات چھوڑ دیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب تم مدینہ پہنچ جاؤ تو یہ مسئلہ وہاں (اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم سے) پوچھنا۔ چنانچہ جب یہ لوگ مدینہ آئے تو پوچھا، جن اکابر سے پوچھا گیا تھا ان میں ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں اور انہوں نے (ان کے جواب میں وہی) صفیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی۔اس حدیث کو خالد اور قتادہ نے بھی عکرمہ سے روایت کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع طواف کے بعد حیض کا مسئلہ ہے۔ مدینہ کے لوگوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا جو طواف کے بعد حائضہ ہو گئی تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ چلی جائے۔ لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کی بات لے کر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی بات نہیں چھوڑیں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مدینہ پہنچ کر پوچھ لینا۔ جب انہوں نے مدینہ میں پوچھا تو جن سے پوچھا گیا ان میں ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں، اور انہوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی۔ اس روایت میں مسئلہ پوچھنے، صحابہ سے تحقیق کرنے، اور طواف کے بعد حیض آنے پر رخصت کا پہلو صاف آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسئلہ واضح نہ ہو تو اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے طواف کے بعد حائضہ ہونے والی عورت کو جانے کا جواب دیا۔
- صحابہ کرام مسئلے کی تحقیق میں دوسرے صحابہ سے بھی پوچھتے تھے۔
- صفیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اس مسئلے میں دلیل کے طور پر بیان ہوئی۔
