صحیح بخاری حدیث ۱۷۵۹ - حائضہ عورت کی روانگی
حائضہ عورت کی روانگی: طواف کے بعد اجازت کا بیان
صحیح بخاری : ۱۷۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۵۹
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، " أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ سَأَلُوا ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ امْرَأَةٍ طَافَتْ ، ثُمَّ حَاضَتْ ؟ , قَالَ لَهُمْ : تَنْفِرُ ، قَالُوا : لَا نَأْخُذُ بِقَوْلِكَ وَنَدَعُ قَوْلَ زَيْدٍ ، قَالَ : إِذَا قَدِمْتُمْ الْمَدِينَةَ فَسَلُوا ، فَقَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَسَأَلُوا ، فَكَانَ فِيمَنْ سَأَلُوا أُمُّ سُلَيْمٍ ، فَذَكَرَتْ حَدِيثَ صَفِيَّةَ " , رَوَاهُ خَالِدٌ وَقَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ .
عکرمہ روایت:
مدینہ کے لوگوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک عورت کے متعلق پوچھا کہ جو طواف کرنے کے بعد حائضہ ہو گئی تھیں، آپ نے انہیں بتایا کہ (انہیں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں بلکہ) چلی جائیں۔ لیکن پوچھنے والوں نے کہا ہم ایسا نہیں کریں گے کہ آپ کی بات پر عمل تو کریں اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کی بات چھوڑ دیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب تم مدینہ پہنچ جاؤ تو یہ مسئلہ وہاں (اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم سے) پوچھنا۔ چنانچہ جب یہ لوگ مدینہ آئے تو پوچھا، جن اکابر سے پوچھا گیا تھا ان میں ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں اور انہوں نے (ان کے جواب میں وہی) صفیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی۔اس حدیث کو خالد اور قتادہ نے بھی عکرمہ سے روایت کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حائضہ عورت کی روانگی ہے، جب وہ طواف کر چکی ہو۔ مدینہ کے لوگوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ایک عورت نے طواف کیا، پھر اسے حیض آ گیا، اب کیا کرے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ وہ چلی جائے۔ لوگوں کو چونکہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی بات بھی معلوم تھی، اس لیے انہوں نے مزید تحقیق کی بات کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں مدینہ جا کر پوچھنے کا مشورہ دیا۔ بعد میں ام سلیم رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا تو انہوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی۔ یہ روایت سکھاتی ہے کہ حج کے مسائل میں اصل واقعہ اور صحابہ کی تحقیق دونوں کو سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طواف کے بعد حیض آنے والی عورت کے لیے روانگی کا جواب بیان ہوا ہے۔
- صحابہ کرام مسئلہ پوچھنے اور تحقیق کرنے میں سنجیدہ تھے۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مدینہ جا کر پوچھنے کا مشورہ دیا۔
- صفیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اس مسئلے میں اہم بنیاد بنی۔
