صحیح بخاری حدیث ۱۸۰۱ - سفر سے رات کو اچانک گھر آنے کی ممانعت
سفر سے واپسی کے آداب: رات کو اچانک گھر نہ آنا
صحیح بخاری : ۱۸۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۰۱
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ أَهْلَهُ لَيْلًا " .
جابر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سفر سے) گھر رات کے وقت اترنے سے منع فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۰۱ کا خلاصہ
یہ حدیث آداب سفر کے ایک بہت اہم پہلو کو سادہ انداز میں بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر سے واپس آ کر رات کے وقت گھر والوں کے پاس اچانک آنے سے منع فرمایا۔ اس میں گھر والوں کی راحت، پردے اور گھریلو نظم کا خیال پایا جاتا ہے۔ سفر سے واپسی کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ آدمی صرف اپنی سہولت نہ دیکھے بلکہ اپنے اہل خانہ کی حالت کا بھی خیال رکھے۔ خاص طور پر رات کا وقت آرام اور سکون کا وقت ہوتا ہے، اس لیے اچانک پہنچنا گھر والوں کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس حدیث میں لمبی تفصیل نہیں، مگر پیغام صاف ہے کہ سفر سے واپسی میں بھی ادب، نرمی اور مناسب وقت کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر سے واپس آتے وقت گھر والوں کے آرام کا خیال رکھنا چاہیے۔
- رات کے وقت اچانک گھر پہنچنے سے بچنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
- اسلام گھریلو زندگی میں نرمی اور لحاظ کو پسند کرتا ہے۔
