صحیح بخاری حدیث ۱۸۰۴ - سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے

سفر عذاب کا ٹکڑا ہے: ضرورت پوری ہو تو گھر واپس آؤ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۰۴

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَنَوْمَهُ ، فَإِذَا قَضَى نَهْمَتَهُ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کو کھانے پینے اور سونے (ہر ایک چیز) سے روک دیتا ہے، اس لیے جب کوئی اپنی ضرورت پوری کر چکے تو فوراً گھر واپس آ جائے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۰۴ کا خلاصہ

یہ حدیث سفر کی حقیقت کو بہت سادہ الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، کیونکہ سفر آدمی کو کھانے، پینے اور سونے سے روک دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سفر میں عام آرام کم ہو جاتا ہے، معمول بدل جاتا ہے اور جسم و دل پر تھکن آتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدمی اپنی ضرورت پوری کر لے تو فوراً گھر والوں کی طرف واپس آ جائے۔ سفر کی حدیث سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بلاوجہ سفر کو لمبا کرنا مناسب نہیں، خاص طور پر جب مقصد پورا ہو چکا ہو۔ اسلام انسان کی عبادت کے ساتھ اس کی صحت، آرام اور گھر والوں سے تعلق کو بھی اہم سمجھتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں کھانے، پینے اور سونے کی سہولت کم ہو سکتی ہے۔
  • ضرورت پوری ہونے کے بعد گھر واپس آنا بہتر ہے۔
  • بلاوجہ سفر کو لمبا کرنے سے بچنے کی ہدایت ملتی ہے۔
  • گھر والوں کے پاس لوٹنا بھی ایک ذمہ داری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں