صحیح بخاری حدیث ۱۸۰۸ - خطرے کے وقت سفر سے رکنے کا مشورہ
مشورہ اور احتیاط: سفر یا حج کے وقت خیرخواہی
صحیح بخاری : ۱۸۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۰۸
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ لَهُ : لَوْ أَقَمْتَ بِهَذَا .
نافع روایت:
عبداللہ رضی اللہ عنہ کے کسی بیٹے نے ان سے کہا تھا کاش آپ اس سال رک جاتے (تو اچھا ہوتا اسی اوپر والے واقعہ کی طرف اشارہ ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۰۸ کا خلاصہ
یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر پچھلی روایات کے واقعہ سے جڑی ہوئی ہے۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے کسی بیٹے نے ان سے کہا کہ کاش آپ اس سال رک جاتے۔ اس جملے میں خیرخواہی، احتیاط اور مشورے کا پہلو سامنے آتا ہے۔ جب سفر یا حج کے راستے میں خطرہ، رکاوٹ یا فتنہ کا اندیشہ ہو تو قریبی لوگ اپنی فکر ظاہر کر سکتے ہیں۔ اس حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا تفصیلی جواب نہیں آیا، اس لیے اس سے زیادہ حکم نکالنا درست نہیں۔ البتہ اتنی بات صاف ہے کہ دینی سفر کے موقع پر بھی گھر والے یا ساتھی خیرخواہی کے طور پر مشورہ دے سکتے ہیں۔ مشورہ کی حدیث کے طور پر یہ روایت احتیاط کا انداز دکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خطرے کے اندیشے میں خیرخواہی کے ساتھ مشورہ دیا جا سکتا ہے۔
- قریبی لوگ سفر کے فیصلے پر اپنی فکر ظاہر کر سکتے ہیں۔
- مختصر روایت سے اتنی ہی بات لی جائے جو متن میں موجود ہے۔
