صحیح بخاری حدیث ۱۸۲۶ - محرم کے لیے پانچ جانور مارنے کی اجازت

محرم کے لیے پانچ جانور: حرج نہ ہونے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۲۶

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں مارنے میں محرم کے لیے کوئی حرج نہیں ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۲۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک مختصر مگر اہم بات فرمائی کہ پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں مارنے میں محرم کے لیے کوئی حرج نہیں۔ اس روایت کے الفاظ میں جانوروں کے نام نہیں آئے، مگر اصل پیغام یہ ہے کہ احرام کی حالت میں بھی کچھ موذی جانوروں کے بارے میں رخصت دی گئی ہے۔ احرام میں عام طور پر شکار اور جانوروں کے معاملے میں احتیاط ہوتی ہے، مگر یہاں نبی صلى الله عليه وسلم نے پانچ جانوروں کو اس عام حکم سے الگ بیان فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں عبادت کے آداب کے ساتھ انسان کی حفاظت اور اذیت سے بچاؤ کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ ہمیں اس حدیث کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جتنا متن میں ہے: محرم کے لیے پانچ خاص جانوروں کے قتل میں حرج نہیں۔ آگے والی روایات میں ان کے نام بھی بیان ہوئے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • احرام کے باوجود بعض موذی جانوروں کے بارے میں رخصت دی گئی ہے۔
  • دینی احکام میں عبادت کے ساتھ حفاظت کا پہلو بھی موجود ہے۔
  • مختصر حدیث کو سمجھتے وقت اس کے الفاظ کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • محرم کو عام شکار سے بچنا ہے، مگر اس روایت میں پانچ جانور مستثنیٰ ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں