صحیح بخاری حدیث ۱۸۲۷ - محرم کن جانوروں کو مار سکتا ہے
محرم کے لیے موذی جانوروں کا حکم
صحیح بخاری : ۱۸۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۲۷
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " حَدَّثَتْنِي إِحْدَى نِسْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محرم (پانچ جانوروں کو) مار سکتا ہے۔ (جن کا ذکر آگے آ رہا ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۲۷ کا خلاصہ
اس روایت میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی بعض ازواج مطہرات کے واسطے سے یہ بات نقل ہوئی ہے کہ محرم کچھ جانوروں کو مار سکتا ہے۔ یہاں الفاظ بہت مختصر ہیں، اس لیے اس حدیث سے صرف اتنی بات لی جائے گی کہ احرام کی حالت میں ہر جاندار کے بارے میں ایک ہی حکم نہیں، بلکہ بعض جانور ایسے ہیں جن کے بارے میں اجازت آئی ہے۔ چونکہ اسی سلسلے کی اگلی روایت میں کوا، چیل، چوہا، بچھو اور کاٹ کھانے والے کتے کا ذکر آتا ہے، اس لیے یہ حدیث اسی باب کے ضمن میں سمجھ آتی ہے۔ اس کا لہجہ سادہ ہے: محرم کے لیے مکمل بے عملی لازم نہیں، بلکہ موذی خطرے کے موقع پر شریعت نے رخصت دی ہے۔ اس میں شکار کے شوق کی اجازت نہیں، بلکہ خاص قسم کے جانوروں کے بارے میں بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام کے احکام میں عام شکار اور موذی جانوروں کا حکم ایک جیسا نہیں۔
- مختصر روایت کو اسی باب کی دوسری روایات کے ساتھ سمجھنا بہتر ہے۔
- محرم کے لیے کچھ جانوروں کے بارے میں اجازت آئی ہے۔
- حدیث کے الفاظ سے آگے بڑھ کر غیر ضروری دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔
