صحیح بخاری حدیث ۱۸۲۸ - کوا چیل چوہا بچھو اور کاٹنے والا کتا

پانچ موذی جانور جنہیں مارنے میں حرج نہیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۲۸

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَتْ حَفْصَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا حَرَجَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ : الْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .

حفصہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں مارنے میں کوئی گناہ نہیں کوا، چیل، چوہا، بچھو اور کاٹ کھانے والا کتا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۲۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں وہ پانچ جانور صاف نام لے کر بیان کیے گئے ہیں جنہیں مارنے میں حرج نہیں: کوا، چیل، چوہا، بچھو اور کاٹ کھانے والا کتا۔ یہ روایت احرام کے باب میں آئی ہے، اس لیے اس کا تعلق محرم کے احکام سے ہے۔ عام طور پر احرام میں شکار سے روکا گیا ہے، مگر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان پانچ جانوروں کو الگ بیان کیا۔ وجہ حدیث کے الفاظ میں یہ ہے کہ انہیں مارنے میں حرج نہیں۔ ان جانوروں میں اذیت اور نقصان کا پہلو نمایاں ہے، جیسے بچھو کا ڈنک یا کاٹنے والے کتے کا خطرہ۔ اس حدیث کو سمجھتے ہوئے یہ بات اہم ہے کہ اسے عام شکار کی اجازت نہ بنایا جائے۔ یہ خاص جانوروں کے بارے میں خاص اجازت ہے۔ اس میں شریعت کی نرمی بھی ہے اور عبادت کے ماحول میں حفاظت کا خیال بھی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کوا، چیل، چوہا، بچھو اور کاٹنے والا کتا اس روایت میں خاص طور پر ذکر ہوئے ہیں۔
  • احرام میں عام شکار سے روکا گیا، مگر ان پانچ کے بارے میں حرج نہ ہونے کی بات آئی۔
  • موذی چیز سے بچاؤ کی گنجائش شریعت میں موجود ہے۔
  • حدیث کی اجازت کو اسی دائرے میں رکھنا چاہیے جسے حدیث نے بیان کیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں