صحیح بخاری حدیث ۱۸۲۹ - حرم میں پانچ موذی جانوروں کا حکم
حرم میں موذی جانور مارنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۸۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۲۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ ، يَقْتُلُهُنَّ فِي الْحَرَمِ : الْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں جو سب کے سب موذی ہیں اور انہیں حرم میں بھی مارا جا سکتا ہے کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں بات صرف احرام تک محدود نہیں رہتی بلکہ حرم کا ذکر بھی آتا ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: پانچ جانور سب موذی ہیں اور انہیں حرم میں بھی مارا جا سکتا ہے۔ پھر کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والے کتے کا ذکر آیا۔ حرم کی حرمت بہت بڑی ہے، اس لیے وہاں جانوروں اور درختوں کے بارے میں بھی خاص ادب ہے۔ لیکن اس حدیث میں ان پانچ موذی جانوروں کے بارے میں اجازت بیان ہوئی ہے۔ اس سے سمجھ آتا ہے کہ حرم کے احترام کے ساتھ نقصان سے بچنے کا پہلو بھی رکھا گیا ہے۔ یہ عام شکار یا بے وجہ جانور مارنے کی اجازت نہیں، بلکہ حدیث میں نام لیے گئے موذی جانوروں کے بارے میں حکم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حرم کی حرمت کے باوجود ان پانچ موذی جانوروں کے بارے میں اجازت آئی ہے۔
- حدیث میں کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا نام کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔
- حرم کے آداب کا خیال رکھتے ہوئے موذی خطرے سے بچنا بھی جائز بتایا گیا ہے۔
- خاص اجازت کو عام شکار پر لاگو نہیں کرنا چاہیے۔
