صحیح بخاری حدیث ۱۸۳۰ - منیٰ میں سانپ مارنے کا حکم
منیٰ کے غار میں سانپ: نبی صلى الله عليه وسلم کا حکم
صحیح بخاری : ۱۸۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۳۰
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ بِمِنًى ، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ : وَالْمُرْسَلاتِ ، وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا ، وَإِنِّي لَأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْتُلُوهَا ، فَابْتَدَرْنَاهَا ، فَذَهَبَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وُقِيَتْ شَرَّكُمْ ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
عبداللہ روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ (ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث سے میرا مقصد صرف یہ ہے کہ منیٰ حرم میں داخل ہے اور صحابہ نے حرم میں سانپ مارنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا تھا)۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ منیٰ کے ایک غار میں تھے۔ اسی دوران سورۃ المرسلات نازل ہو رہی تھی، آپ صلى الله عليه وسلم اس کی تلاوت فرما رہے تھے، اور صحابی آپ کی زبان مبارک سے اسے سیکھ رہے تھے۔ اسی وقت ایک سانپ ان پر گرا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے مار دو۔ صحابہ اس کی طرف بڑھے، مگر سانپ بھاگ گیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے، وہ بھی تمہارے شر سے بچ گیا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع سانپ جیسے موذی جانور سے بچاؤ ہے، خاص طور پر منیٰ کے مقام پر۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نازل ہونے والی آیات کو براہ راست نبی صلى الله عليه وسلم سے سیکھتے تھے۔ حدیث کا حکم سانپ کے واقعے تک محدود رکھنا چاہیے اور اس میں غیر ضروری اضافے نہیں کرنے چاہییں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- موذی سانپ سامنے آئے تو اس کے خطرے سے بچنے کی تدبیر کی جا سکتی ہے۔
- صحابہ نبی صلى الله عليه وسلم سے قرآن سیکھنے میں بہت توجہ رکھتے تھے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سانپ کے بھاگ جانے پر معاملہ اللہ کی حفاظت کے پہلو سے بیان فرمایا۔
- حدیث میں منیٰ کے اندر پیش آنے والا ایک خاص واقعہ بیان ہوا ہے۔
