صحیح بخاری حدیث ۱۸۳۱ - چھپکلی کو موذی کہنے کی حدیث

چھپکلی کو موذی کہا گیا: عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۳۱

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِلْوَزَغِ : فُوَيْسِقٌ ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : إِنَّمَا أَرَدْنَا بِهَذَا أَنَّ مِنًى مِنْ الْحَرَمِ ، وَأَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا بِقَتْلِ الْحَيَّةِ بَأْسًا .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو موذی کہا تھا لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ آپ نے اسے مارنے کا بھی حکم دیا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بہت محتاط انداز میں بات بیان کی۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے چھپکلی کو موذی کہا، لیکن میں نے آپ صلى الله عليه وسلم سے یہ نہیں سنا کہ آپ نے اسے مارنے کا حکم دیا ہو۔ یہ حدیث ہمیں ایک بڑا علمی ادب سکھاتی ہے: راوی وہی بات بیان کرتا ہے جو اس نے سنی ہو، اور جو بات نہیں سنی اسے صاف بتا دیتا ہے۔ اس روایت میں اصل الفاظ چھپکلی کو موذی کہنے کے ہیں، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رہنی چاہیے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے باب کے ضمن میں یہاں منیٰ اور حرم کے مسئلے کا اشارہ بھی ہے، مگر حدیث کے متن میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی احتیاط خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ دینی بات میں اندازہ لگانے کے بجائے سنی ہوئی بات کو سنی ہوئی حد تک بیان کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث بیان کرتے وقت صرف وہی بات کہنی چاہیے جو معلوم اور سنی ہوئی ہو۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے چھپکلی کو موذی کہنے کی بات نقل کی۔
  • انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ قتل کا حکم انہوں نے نہیں سنا۔
  • علمی امانت یہ ہے کہ روایت میں اپنی طرف سے اضافہ نہ کیا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں