صحیح بخاری حدیث ۱۸۵۱ - احرام میں مرنے والے کا کفن اسی کے کپڑوں میں
احرام میں مرنے والے کو کیسے غسل اور کفن دیا جائے؟
صحیح بخاری : ۱۸۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۵۱
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ ، وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .
ابن عباس روایت:
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں تھا کہ اس کے اونٹ نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی۔ وہ شخص محرم تھا اور مر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت دی کہ اسے پانی اور بیری کا غسل اور (احرام کے) دو کپڑوں کا کفن دیا جائے البتہ اس کو خوشبو نہ لگاؤ نہ اس کا سر چھپاؤ کیونکہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۵۱ کا خلاصہ
یہ روایت بھی محرم کی وفات کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ اس کی اونٹنی نے اسے گرا کر اس کی گردن توڑ دی، وہ محرم تھا اور وفات پا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دیا جائے، احرام کے دو کپڑوں میں کفن دیا جائے، اسے خوشبو نہ لگائی جائے، اور اس کا سر نہ چھپایا جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔ اس حدیث کا مرکزی مضمون محرم کی میت کا حکم ہے۔ متن میں یہ بات خاص طور پر آئی ہے کہ وہ شخص محرم تھا، اس لیے غسل، کفن، خوشبو اور سر کے بارے میں الگ ہدایت دی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں واضح ہے کہ فوت ہونے والا شخص محرم تھا۔
- اسے پانی اور بیری سے غسل دینے کا حکم دیا گیا۔
- اس کے احرام کے دو کپڑوں میں کفن دینے کی ہدایت ہوئی۔
- خوشبو نہ لگانے اور سر نہ چھپانے کا حکم بیان ہوا ہے۔
